میں غفار ہوں۔۔۔


 
میٹرک پاس کرنے کے بعد راقم نے مختلف تنظیموں کے دفاتر میں جانا شروع کردیا اور طرح طرح کی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ اول اول طاہرالقادری کی جماعت میں شامل ہوا، تحریک منہاج القران کا بغور مشاہدہ کیا، علما، رہنماوں کی زندگیوں میں بے شمار تضادات نظر آئے،مذہب کے نام پر کاروبار جاری تھا ۔ مرزائی،قادیانی اور احمدی کے نام پہلی بار سنے ، مرزائیت،قادنیت، احمدیت کو کافریت سے منسوب کیا جاتا اور تحریک منہاج القران رد قادنیت کے نام سے باقاعدہ ایک کورس کرایا جاتا کہ امت مسلمہ میں قادیانی آستین کے سانپ ہیں جو مسلمانوں کو درپردہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس نفرتوں کے کاروبار کو دیکھ کر راقم نے تحریک منہاج القران کو چھوڑ دیا اور مذاہب کا مطالعہ شروع کردیا، سچ کی تلاش میں سامی اور غیر سامی مذاہب سمیت احمدیت اور دیگر جدید اور نئے مذاہب کو بھی کھنگال ڈالا، مدعان نبوت اور مہدی،مسیح کے تصورات،خیالات اور تعلیمات کا بھی جائزہ لیا۔ہندومت،تاو مت،جین مت،بدھ مت،یہودیت،عیسائیت،بہائیت، کے پیروکاروں ،علما سے ملاقاتیں کیں،مذہبی ٹھکیداری،تجارت،جذباتیت اور بہکاوے نظر آئے، جماعت احمدیہ قادیانی کی چندہ بازی نے عاجز کردیا۔مذاہب سے ایمان یکسر ختم ہوگیا۔ راقم نے خود کو مذہبی دنیا سے الگ کرلیا ۔ لیکن ایک اضطراب، بے چینی کی کفیت بدستور جاری کہ کوئی ہو جو اصلاح کرے ، ایک نئی دنیاآباد کرے ،اس دوران عجیب وغریب خیالات و خواب آتے، بعض اوقات بڑے غیرمعمولی خواب ہوتے اور واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے رہے، ایسے لگتا راقم کو کوئی پکارتا ہے، بلا رہا ہے، کہہ رہا ہے․؛؛ ادھر آو اور یہ کام کرو؛؛ اصلاح کی طرف نکلو، راقم نے ایک انقلابی تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی، وہاں بھی محض کاروبار جاری تھا، سوچتا تھا کچھ خود کروں، لیکن ناتواں ، وسائل کی کمی، میں کیا کرسکتا تھا، لکھتا تھا، پانچ کتابیں لکھیں، کچھ نہ بدلا، دوستو سے ذکر کرتا ، دوست حوصلہ دیتے لیکن ساتھ چلنے کو تیار کوئی نہ ہوتا۔ 2013نصف گزر چکا تھا۔راقم کی ذہنی کفیت عجیب ہو چکی تھی۔ ایک خواب جو مسلسل آتا،ایک شخص ملتا جو بڑی محبت و شفقت سے پیش آتا، ایسا لگتا تھا کہ میں جاگتے میں اس سے مل رہا ہوں اور باتیں کرتا ہوں ، عجب تھا کہ ان کی باتیں کئی کئی دن یاد رہتیں۔11ستمبر 2013کو پھر وہی شخص خواب میں ملتا ہے۔ ارشد میری طرف آؤ ،راقم کو پکارتا ہے۔ راقم خاموشی سے اس کے قریب جاتا ہے ۔ موصوف ہلکے تبسم کے ساتھ گویا ہوتے ہیں۔․؛؛ میں غفار ہوں؛؛اور تم میرے ساتھ چلو ، راقم کوئی جواب نہ دے پایا، کئی دن سوچتا رہا، ماجرا کیا ہے، غفار کون ہے، کوئی پیر،ولی یا فرشتہ ہے، کوئی میرے خاندان کا بزرگ ہے۔ بہت کچھ سوچتا رہا پھر ایک خواب قرار دیدیا کہ خواب ہے ،حقیقت تو نہیں ہے۔11اکتوبر 201 3کی درمیانی رات تھی اچانک بیدار ہو گیا پھر نیند اڑ گئی اور راقم نے کیمپوٹر آن کر لیا ،فیس بک کھولی تو اپنی وال پر ایک اشتہار دیکھ کر دم بخود رہ گیا، 11ستمبر 201 3کو آنیوالی خواب فلم کی طر ح چلنے لگی ، جاگتی آنکھیں اپنے خواب کی حقیقت دیکھ رہی تھیں۔عقل سیلم اور دل و دماغ نے نعرہ مستانہ بلند کیا کہ یہ وہی ہستی ہے جو میرے خوابوں میں دکھائی جاتی رہی ہے۔ یہی غفار ہے جس کی تلاش میرے من کی دنیا میں جاری تھی۔خوشی سمندر کی لہروں
کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہوئی میرے جسم و جاں میں دوڑ نے لگی کہ منزل یہی تھی ،تلاش ختم ہوئی،کوئی رابطہ ، کوئی لنک تلاش کرنا شروع کردیا، جماعت احمدیہ اصلاح پسند کی آئی ڈی نظر آئی، لنک کیا تو آگے ڈاکٹر عامر سے رابطہ ہوا،ابتدائی معلومات کے حصول کے بعد حضور عبدلغفار کے حلقہ عقیدت میں شامل ہو جاتا ہوں ، آج راقم اطمینان قلب محسوس کرتا ہے اور حضور کا پیغام محبت پھیلانے کی سعی جملہ میں مگن ہے۔

خادم
رانا محمد ارشد
راولپنڈی ․پاکستان

Advertisements

حضرت جنبہؑ اور مسلہ ماموریت


 
تحریر : رانا محمد ارشد
پیدائشی احمدی ہوں ۔ گزشتہ سال باطنی حالات میں عجیب تبدیلیاں رونما ہونا
شروع ہوئیں ، تواتر کے ساتھ ایک خواب آتا رہا ، خواب میں ایک شخص نے کئی
بار اپنی طرف بلایا ، پریشانی بڑھتی رہی ۔ کئی سوچیں غالب آتیں ،بالآخر
ایک رات حیرتوں کا سمندر میر ے سامنے تھا وہی خواب ، وہی شخصیت میرے
مقابل کھڑی سراپا تبسم فرما رہی تھی ، آؤ میرے ساتھ ،، میں غفار ہوں
،میرے پریشانیوں اور سوالوں کا حل تھا ، نیا سفر شروع ہوا ، میں حضرت
عبدلغفار جنبہ ؑ کی ؓ بیعت میں چلا گیا ،کئی ماہ کے بعد کچھ اور لوگوں کو
یہی دعویٰ کرتے ہوئے پایا ، جب ان مدعان کے بارے عمومی معلومات حاصل کیں
تو حضرت جنبہؑ پر بھی کچھ تحفظات نے جنم لیا ،فوری خیال نے جست لگائی کہ
ریسرچ کی جائے اور تاریخی حقائق کو دیکھا جائے کہ خدا اپنے مامور کب ،
کیوں مقرر کرتا ہے اور ان کی غرض کیا ہوتی ہے ، میرے تمام سوالوں کے جواب
تاریخ انبیاء اور رسولوں کی زندگیوں میں بڑی شفافیت کے ساتھ مل گئے ۔ آپ
کے زیر مطالعہ میرا یہ مضمون میرے یقین کامل کا مظہر ہے ۔ راقم مذہب کا
عالم نہیں ہے ، قرآنی حوالے نہیں دے سکتا ،عقل پر یقین رکھتا ہوں اور
ریسرچ اور تاریخ سے سیکھتا ہوں ۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ حضرت رام سے لیکر حضرت جنبہؑ تک کائنات ارضی
میں خدا کی جانب سے جتنے بھی ماموران کو مقرر کیا گیا اس کی خاص وجوہات
تھیں اور اس زمانے کے خاص حالات تھے ۔ خاص حالات سے مراد کسی قیبلے ، قوم
، جماعت یا خطے میں جنگ ، بدامنی ، اندرونی بگاڑ ہے ایسے ہی خاص حالات کو
سیدھارنے اور اصلاح کار کے لئے خدا اپنے خاص بندوں کو امن اور حالات کی
درستگی کا مش سونپ کر مامور کرتا ہے ، مثال کے طور پر جب حضرت رام آئے تو
اس کے قیبلے اور خطے میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا اور لوگ آپسی
جنگ میں مبتلا تھے ۔ ایسی طرح جب حضرت محمدﷺ کا ظہور ہوا تو سلطنت روم
اور سلطنت ثاثانی (فارس) کی جنگ نے تباہی مچائی ہوئی تھی ، جہالت اور قتل
و غارت گری رواج بن چکا تھا ۔مطلب خدا کسی وجہ کے ساتھ اپنے بندوں کو
مامور کرتا ہے اور ایک وقت (صدی) میں ایک ہی مامور مقرر کیا جاتا ہے تاہم
ایسا ہوا ہے کہ جھوٹے مدعان سامنے آتے ہیں جو پہلے آنے والے مدعی کی
صداقت کی دلیل بھی ہے ۔ خدائی انتظامات میں بد انتظامی کا شبہ تک بھی
نہیں کیا جا سکتا ہے کہ خدا ایک ہی وقت صدی میں ایک ہی قیبلے ، قوم یا
جماعت میں کئی مامور مقر ر کر دے ، ایسا ممکن نہیں ہو سکتا ہے ۔ مثال کے
طور پر جماعت احمدیہ نے دینا بھر میں بے مثال کامیابی حاصل کی ہے ۔ خلیفہ
حضرت مرزا طاہر احمد کے بعد خلافت احمدیہ خدا ئی اصولوں کے برعکس سیاسی
بنیادوں پر قائم ہوئی تو جماعت میں روحانیت کی یجائے سیاست نے جڑ پکڑی
اور جماعت احمدیہ میں مالی ، روحانی اور تعلیم و تربیت میں بگاڑ پیدا ہوا
، احمدی قوم بطور قوم ٹوٹ پھوٹ کی جانب جانے لگی ،یہی عوامل ہیں کہ خدا
نے جماعت احمدیہ میں ایک نئی روح پھونکنے اور حالات سیدھارنے کے لئے حضرت
جنبہؑ کی صورت میں مامور فرمایا ہے ۔ رواں صدی میں جماعت احمدیہ اور قوم
احمدی میں ایک ہی مامور کی گنجائش ہے ۔ عقلی ، سائنسی ، روحانی اور خدائی
دلیل کے مطابق خدا اپنے تقرر کردہ مامور کو خاص علمی صلاحیت ، بات کرنے
کا سلیقہ ، خطابت اور دیگر علوم سے مزین کر کے لوگوں کے درمیان کھڑا کرتا
ہے اور پھر مقرر کردہ مامور اصلاح کا درست مقصد و منشور وضع کرتا ہے۔ایسے
اصول اور قواعد جو بگاڑ بن چکے ہوں اور نئے حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ
نہ ہو ان کی جگہ درست اصول اور قواعد وضع کیے جاتے ہیں اور حالات کے
تقاضوں کے مطابق نئی جماعت کھڑی کی جاتی ہے ، ماموریت کی غرض و غایت کو
وضع کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور مدعان اپنی ماموریت کو ماموریت کے
عین خدائی اصولوں کو واضع نہ کرسکیں تو اس کا واضع مطلب یہ ہو گا کہ
مدعان کی تمام باتیں اختراع ہیں وہ خدا کی جانب سے نہیں ہیں اور زمانہ
(ٹائم) اور عمومی حالات کے تقاضے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مامور یا مدعان کی
باتوں میں کس قدر سچائی ہے۔قارئین اگر آپ جماعت احمدیہ کی مجموعی اندرونی
صورتحال ، مالی ، انتظامی امور سمیت اخلاقی او روحانی معاملات کا جائزہ
لیں اور پھر حضرت جنبہؑ کی علمی بصیرت ، تحریریں،ماموریت کے اغراض و
مقاصد اور منشور اور دیگر ایجنڈے کا تجزیہ کریں تو آپ پر واضع ہو جائے گا
کہ جماعت احمدیہ اور قوم احمدی میں ایک نئے مصلح کی ضرورت تھی

ہم چاہتے ہیں


حقیقی اسلام کے نام پر احمدیت کے حسین چہرے پرجو بدنما داغ لگا دیئے گئے ہیں احمدیت کو اِن داغوںسے پاک و صاف کر نا ۔( ۲) جناب خلیفہ ثانی صاحب نے غلط دعویٰ کرکے پیشگوئی مصلح موعود کے ضمن میں جو مغالطہ پیدا کیا ہے پیشگوئی مصلح موعود کی حقیقت سے پردہ اُٹھا کرکے اس مغالطہ کو دور کر نا ۔( ۳)مذاہب کی جنگ کو دائرہ علم میں لاکر علم کے ذریعے دین اسلام کی حقانیت اور غلبے کی راہ ہموار کرنا( ۴) تنخواہ دار اور منظور نظر ملازموں کی نام نہاد مجلس انتخاب کی جگہ مجلس شوریٰ کے ذریعہ خلافت راشدہ کا دوبارہ اجراء کر نا( ۵)قدرت ثانیہ کے نام پر فریب دہی کا خاتمہ کرنا ( ۶)دین میں داخل کیے گئے چند فتنے مثلاً ختم مجددیت وغیرہ کا دفعیہ کر نا ( ۷)جماعت احمدیہ میں نام نہاد اور دکھاوے کے انتخاب کی جگہ تقویٰ پر مبنی حقیقی جمہوری طریقہ انتخاب کا اجراء کر نا ( ۸) جماعت احمدیہ میں نام نہاد قضا کو ختم کرکے اِسکی جگہ ایک مقتدر عدالتی نظام خلیفہ وقت کو بھی عدالت میں طلب کرسکیں ( ۹) جبری نظام کا خاتمہ کرکے اسکی جگہ اسلامی نظام جاری کرنا (۱۰) احمدیوں سے آزادی ضمیر اور اُس کے اظہار کا چھینا ہوا حقلَاإِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ (بقرہ ۔ ۲۵۷ ) کے مطابق اُنہیں واپس دلا نا ( ۱۱) قبروں میں دبے پڑے احمدیوں کو زندہ کرکے باہر نکالنا( ۱۲) افرادجماعت کو اخراج اور مقاطعہ ایسی ظالمانہ اور غیر شرعی سزائوں سے نجات دلا نا (۱۳) اسیران راہ ِمولیٰ (احمدی جن کے گلے میں حقیقی اِسلام کے نام پر غلامی کا طوق ڈالا گیاہے) کو رُستگاری دلانا( ۱۴)چندوں کے نام پر افرادِ جماعت پر نصف صد کے قریب جو ٹیکس عائد کیے گئے ہیںاِنہیں یکسر ختم کرکے از سر نو حضرت بانئے جماعت ؑکے شروع کردہ چندوں کا اِجرا ء کرنا اور پھر آپ ؑ اورحضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کی طرح چندے کا حساب افراد جماعت کے آگے پیش کر نا( ۱۵)عالم اسلام کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا .

تمہاری اِمامت کریں گے۔


۱) ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَانَزَلَابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُم فَاَمَّکُمْ۔(صحیح مسلم جلد ۱ باب نزول عیسیٰ ؑ کا بیان صفحہ۲۵۵)ابو ہر یرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہو گا جب ابن مریم نازل ہو نگے تم میں ، پس وہ تمہاری اِمامت کریں گے۔
(۲) ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَانَزَلَابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُم فَاَمَّکُمْمِنْکُمْ۔‘‘( ایضاً)
ابو ہر یرہ ؓ سے روایت ہے کہ یقینا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہو گا جب ابن مریم نازل ہونگے تم میں ، پس وہ تمہاری اِمامت کریں گے تم ہی میں سے ۔
(۳) ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَانَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔‘‘
( ایضاً۔متفق علیہ ) ترجمہ: ابو ہر یرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکیسے ہو گے تم جب ابن مریم
 نازل ہو گا تم میں اور تمہارا اِمام تم میں سے ہو گا۔

Aside


عتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ میں نے کسی سے قرآن یا تفسیر کا ایک سبق بھی نہیں پڑھا

 

اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ میں نے کسی سے قرآن یا تفسیر کا ایک سبق بھی نہیں پڑھا جبکہ دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ چھ سات سال کی عمر میں ایک فارسی خوان معلم نے .

.مجھے قرآن کریم پڑھایا

قرآن مجید کے الفاظ کا بلا ترجمہ و تشریح کسی شخص سے پڑھنا علم واسرار دین سیکھنے کے مترادف نہیں ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب” ایام الصلح“ اردو کے صفحہ 147طبع اول پر تحریر فرمایا ہے :۔

”کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے ”

                                                                        (ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد 14صفحہ394)

لیکن دوسری جگہ کتاب البریة صفحہ 149 پر رقم فرماتے ہیں :۔

”جب میں چھ سات سال کا تھا توایک فارسی خوان معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں ”

(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180 حاشیہ)

اس پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؑ کی تحریرات میں تضاد ہے ۔

جواب:۔

اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ اعترا ض کرتے وقت علمائے بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے از راہ تحریف ایام الصلح صفحہ 147 کی نصف عبارت پیش کی جاتی ہے  ۔اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لیے عبارت متنازعہ کا مکمل فقرہ درج ذیل ہے :۔

”سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا ۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے ۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن ،حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے “۔

(ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد 14صفحہ394)

’’علم دین ‘‘اور ’’اسرار دین ‘‘کے الفاظ قابل غور ہیں

معترض کی پیش کردہ عبارت کے سیاق میں” علم دین“ اور سباق میں” اسرار دین“ کے الفاظ صاف طور پر مذکور ہیں ۔جن سے ہر اہل انصاف پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس عبارت میں قرآن کریم کے ناظرہ پڑھنے کا سوال نہیں ۔بلکہ اس کے معانی و مطالب ،حقائق ومعارف کے سیکھنے کا سوال ہے اور عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے آنے والے موعود کا نام جو مہدی رکھا ۔تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ وعلوم واسرار دین کسی انسان سے نہیں سیکھے گا ۔گویا حقائق ومعارف قرآن مجید میں اس کا کوئی استاد نہیں ہوگا۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس لحاظ سے میرا بھی کوئی استاد نہیں۔جس سے میں نے ”علم دین“ یا” اسرار دین“ کی تعلیم پائی ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا الفاظ کا بلا ترجمہ و تشریح کسی شخص سے پڑھنا علم واسرار دین سیکھنے کے مترادف نہیں ہے ۔کیونکہ” الفاظ قرآن“ اور” علم قرآن“ میں خود قرآن مجید میں فرق کیا ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے ”ھُوَا لَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیَا تِہِ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ ”۔(سورة الجمعہ :3 )کہ رسول عربی ﷺ کو اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا ہے ۔آپ لوگوں کے سامنے اللہ تعالی کی آیات ( یعنی الفاظ قرآن ) پڑھتے،ان کا تزکیہ نفس کرتے اور ان کو کتاب (یعنی قرآن مجید )اور حکمت کا” علم“ بھی دیتے ہیں ۔

اس آیت میں یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیَا تِہِ کے الفاظ میں” الفاظ قرآن“ کا ذکر فرمایا ہے اور” وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ ”فرما کر قرآن مجید کے مطالب ومعانی اور حقائق ومعارف کا تذکرہ فرمایا ہے پس مندرجہ بالا آیت سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ صرف ”قرآن کا پڑھنا“ علم قرآن حاصل کرنا نہیں ہے ۔یا یوں کہو کہ الفاظ قرآن کے کسی شخص سے پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ علم دین بھی اس شخص سے حاصل کیا گیا ۔

دوسری عبارت جو معترضین کتاب البریة۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ 180 حاشیہ سے پیش کرتے ہیں ۔اس میں صرف اس قدر ذکر ہے کہ چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید پڑھا ۔اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضور ؑ نے” علم دین“ یا” اسرار دین“ یا قرآن مجید کے حقائق ومعارف یا معانی ومطالب کسی شخص سے پڑھے تا یہ خیال ہو سکے کہ حضرت مسیح موعودؑکی دونوں عبارتوں میں تناقض ہے ۔ہمارا دعوی ہے کہ کتاب البریة کی عبارت میں چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کا ذکر ہے اور ایام الصلح صفحہ 147 کی عبارت میں کسی شخص سے قرآن مجید کے مطالب ومعارف سیکھنے کی نفی کی گئی ہے ۔گویا جس چیز کی نفی ہے وہ اور ہے اور دوسری جگہ جس چیز کا اثبات ہے وہ اور ہے ۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

ممکن ہے کوئی معترض یہ کہے کہ سیا ق وسباق دیکھنے کی کیا ضرورت ہے دونوں عبارتوں میں قرآن مجیدہی کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ہم تو دونوں جگہ اس کے ایک ہی معنے لیں گئے ۔اس شبہ کا جواب یہ ہے ۔کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک جگہ ایک لفظ بول کر نفی کی ہو ۔اور دوسری جگہ اسی لفظ کا استعمال کر کے اس کا اثبات کیا گیا ہو مگر اس کے باوجود مفہوم اس لفظ کا دونوں جگہ مختلف ہو ۔بغرض تشریح دو مثالیں پیش ہیں ۔

 پہلی مثال

1۔قرآن مجید کی رو سے بحالت روزہ بیوی سے مباشرت ممنوع ہے ۔مگر بخاری ۔مسلم ومشکوة تینوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی مندرجہ ذیل روایت درج ہے :۔”عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صَلْعَمْ یُقَبِّلُ وَ یُبَاشِرُ وَ ھُوَ صَائِمٌ وَ کَانَ اَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہِ ”۔

(بخاری جلد ۱ کتاب الصوم باب المباشرة للصائم ومشکوة صفحہ 176 مطبع اصح المطابع باب تنزیہ الصوم وتجرید بخاری جلد 1 صفحہ370)

کہ حضرت عائشة رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ روزہ میں ازواج کے بوسے لے لیا کرتے تھے ۔اور ان سے مباشرت کرتے تھے ۔اس حالت میں کہ آپ کا روزہ ہوتا تھا ۔مگر آپ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قابو رکھتے تھے ۔

اب کیا قرآن کریم کے حکم ”لَا تُبَاشِرُوْا ھُنَّ ”(البقرة :88) کو مندرجہ بالا روایت کے الفاظ یُبَاشِرُ وَ ھُوَ صَائِمٌ کے بالمقابل رکھ کر کوئی ایماندار شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی چیز کی نفی اور ایک ہی چیز کا اثبات کیا گیا ہے ۔ظاہر ہے کہ حدیث مندرجہ بالا میں ”مباشرت “سے مراد مجامعت نہیں ۔بلکہ محض عورت کے قریب ہونا ہے اور اسی پر قرینہ اسی روایت کا اگلا جملہ وَکَانَ اَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہِ ہے ۔لیکن اس کے بر عکس قرآن مجید میں لفظ مباشرت آیا ہے وہاں اس سے مراد”مجامعت “ہے ۔پس گو دونوں جگہ لفظ ایک ہی استعمال ہوا ہے مگر اس کا مفہوم دونوں جگہ مختلف ہے اور سیاق وسباق عبارت سے ہمارے لیے اس فرق کا سمجھنا نہایت آسان ہے ۔

 دوسری مثال

قرآن مجید میں ہی ہے ۔ایک جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے ”مَاضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی ”(النجم : 3)کہ رسول خدا ﷺ” ضال“ نہیں ہوئے اور نہ راہ راست سے بھٹکے ،لیکن دوسری جگہ فرمایا ۔”وَوَجَدَکَ ضَالاً فَھَدٰی ”(الضحٰی : 8)کہ اے رسول !ہم نے آپ کو ”ضال“ پایا اور آ پ کو ہدایت دی ۔

 دونوں جگہ ”ضال“ ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ایک جگہ اس کی نفی کی گئی ہے مگر دوسری جگہ اس کا اثبات ہے ،کیا کوئی ایماندار کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے ۔ہر گز نہیں،کیونکہ ہر اہل علم دونوں عبارتوں کے سیاق وسباق سے سمجھ سکتا ہے کہ دونوں جگہ لفظ ”ضال“ ایک معنے میں استعمال نہیں ہوا ۔بلکہ دونوں جگہ اس کا مفہوم مختلف ہے ۔ایک جگہ اگر ”گمراہ“ مراد ہے اور اس کی نفی ہے ۔تو دوسری طرف تلاش کرنے والا قرار دینا مقصود ہے اور اس امرکا اثبات ہے ۔پس ہمارے مخالفین کا یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرنا کہ لفظ دونوں جگہ ایک ہی ہے سیاق وسباق عبارت دیکھنے کی کیا ضرورت ہے “۔حد درجہ کی نا انصافی ہے۔

اعترا ض کی اصل حقیقت

 قرآن مجید کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی سے نہیں پڑھا ۔

ہم معترض کی پیش کردہ دونوں عبارتوں پر ان کے سیاق وسباق کے لحاظ سے جب غور کرتے ہیں۔تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کتاب البریة صفحہ 149 کی عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ میری چھ سات سال کی عمر میں میرے والد صاحب نے میرے لیے ایک استاد مقرر کیا ۔جن سے میں نے قرآن مجید پڑھا ۔اور ہر عقلمند انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ چھ سات سال کے عرصہ میں بچہ قرآن مجید کے معانی ومطالب اور حقائق ومعارف سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔پس یہ امر تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت کے والد بزرگوار نے چھ سات سال کی عمر کے بچہ کو معارف قرآنیہ سکھانے کے لیے ایک استاد مقرر کیا ہو ۔پس اس عبارت میں چھ سات سال کی عمر کا قرینہ ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ا س حوالہ میں قرآن مجید کے مجرد الفاظ کااستاد سے پڑھنا تسلیم فرمایا ہے ۔مگر حضور علیہ السلام کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن مجید کا ترجمہ یا قرآنی مطالب بھی حضور علیہ السلام نے خدا کے سوا کسی استاد سے پڑھے ہوں۔اس کے بالمقابل معترض کی پیش کردہ عبارت از” ایا م الصلح“ صفحہ147 طبع اول میں حضرت علیہ السلام نے صاف لفظوں میں یہ فرمایا ہے ۔علم دین اور” اسرار دین “کے لحاظ سے قرآن مجید کسی سے نہیں پڑھا۔اور یہ حقیقت ہے جس کی نفی کسی دوسری عبارت میں نہیں کی گئی ۔

ایام الصلح کی عبارت کا سیاق وسباق

اس امر کے ثبوت میں کہ” ایام الصلح“ کی عبارت میں قرآن مجید کے الفاظ کا ذکر نہیں ۔بلکہ قرآن مجید کے معانی ومطالب کے کسی انسان سے سیکھنے کی نفی ہے ۔ہم ایام الصلح کی عبارت کا سیاق وسباق اور اس کا مضمون دیکھتے ہیں ۔ایام الصلح کو دیکھنے سے یہ معلوم ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس موقعہ پر اپنے دعوی مہدویت کی صداقت کے دلائل کے ضمن میں ایک دلیل ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ۔

(ا) ”آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ہے ۔سو اس میں یہی اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا ۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی خیال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی شخص سے میں نے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ مجھ پر کھولے گئے ”۔

(ایام الصلح ۔روحانی خزائن جلد 14صفحہ394 )

(ب)اس مضمون پر بحث کرتے ہوئے ذرا آگے چل کر فرماتے ہیں :۔

 ”مہدویت سے مراد وہ بے انتہا معارف الٰہیہ اور علوم حکمیہ اور علمی برکات ہیں جو آنحضرت ﷺ کو بغیر واسطہ کسی استاد کے علم دین کے متعلق سکھائے گئے ”

(ایام الصلح ۔روحانی خزائن جلد 14صفحہ396 )

اس عبارت میں بعینٖہ وہی مضمون ہے جومعترض کی پیش کردہ عبارت میں ہے اور اس کے ساتھ ہی اس میں ان الفاظ کی مکمل تشریح بھی موجود ہے جن کے اجمال سے معترض نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ناکام کوشش کی ہے ۔

(ج) اگلے صفحہ پراسی مضمون کو مندرجہ ذیل الفاظ بیان فرمایا ہے ۔

”روحانی اور غیر فانی برکتیں جو ہدایت کاملہ اور قوت ایمانی کے عطا کرنے اور معارف اور لطائف اور اسرار الہیہ اور علوم حکمیہ کے سکھانے سے مراد ہے ۔ان کے پانے کے لحاظ سے وہ مہدی کہلائیگا ”۔

(ایام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد 14صفحہ397 )

اس عبارت میں بھی مہدویت کی تعریف کو دہرایا گیا ہے ۔”معارف“ ”لطائف“اور ”اسرارالہیہ“ اور” علوم حکمیہ“ کے الفاظ اس بات کی قطعی دلیل ہیں کہ معترض کی پیش کردہ صفحہ 147 والی عبارت میں بھی انہی امور کا ذکر ہے ۔قرآن مجید کے الفاظ پڑھنے کا ذکر نہیں ۔جیسا کہ اس عبارت میں” علم دین اور اسرار دین “کے الفاظ اس پر گواہی دے رہے ہیں اور جن کے متعلق اوپر لکھا جا چکا ہے ۔

(د)اسی دلیل کو اور زیادہ وضاحت سے بیان کرتے ہوئے (روحانی خزائن جلد14صفحہ404) پر حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

 ”ہزار ہا اسرار علم دین کھل گئے ۔قرآنی معارف اور حقائق ظاہر ہوئے ۔کیا ان باتوں کا پہلے نشان تھا ۔؟”

اس عبارت میں بھی حضور علیہ السلام نے جن چیزوں کے خدا تعالی سے سیکھنے کا ذکر فرمایا ہے وہ قرآنی معارف و حقائق ہیں نہ کہ الفاظ قرآنی !

آگے چل کر بطور نتیجہ تحریر فرماتے ہیں:۔

”سو میری کتابوں میں ان برکات کا نمونہ بہت کچھ موجود ہے ۔براہین احمدیہ سے لے کر آج تک جس قدر متفرق کتابوں میں اسرار اور نکات دین خدا تعالی نے میری زبان پر باوجود نہ ہونے کسی استاد کے جاری کئے ہیں ․․․․․․․اس کی نظیر اگر موجود ہے تو کوئی صاحب پیش کریں ”۔

 (ایام الصلح ۔روحانی خزائن جلد14 صفحہ 406)

پھر فرماتے ہیں :۔

”جو دینی اور قرآنی معارف ،حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت وفصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں۔دوسرا ہر گز نہیں لکھ سکتا ۔اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لیے آئے تو مجھے غالب پائے گی ”۔

(ایام الصلح ۔روحانی خزائن جلد14 صفحہ 407 )

 

خلاصہ جواب

حضرت اقدس علیہ السلام نے ”ایام الصلح“ یا کسی اور کتاب میں ایک جگہ بھی یہ تحریر نہیں فرمایا کہ میں نے قرآن مجید ناظرہ بھی کسی شخص سے نہیں پڑھا ۔نہ یہ چیلنج دیا ہے کہ میں استاد نہ ہونے کے باوجود قرآن مجید کے الفاظ اچھی طرح پڑھ سکتا ہوں ۔اور یہ کہ فن قرأت میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ہاں حضور علیہ السلام نے یہ دعویٰ ضرور فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے حقائق ومعارف ،مطالب اور نکات حضور علیہ السلام کے الہام

”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ“

(تذکرہ صفحہ44 ایڈیشن سوم )

کے مطابق حضور کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئے اور اس لحاظ سے یقینا حضور علیہ السلام نے قرآن مجید کسی انسان سے نہیں پڑھا ۔اور اسی امر کا دعویٰ حضور علیہ السلام نے ایا م الصلح صفحہ 147 پر بھی کیا ہے ۔جس کو معاندین جماعت احمدیہ انتہائی نا انصافی سے بطور اعتراض پیش کر کے نا واقف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

Aside


حضرت مرزا صاحب ؑ کا عقیدہ تھا کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم میرے بعد آئے گا میری غلامی میں لیکن قادیانی مولوی کہتے ہیں خلافت قیامت تک جائے گی ان نیچے دیئے گئے حوالوں کو احباب غور سے پڑھیں حضرت مہدیؑ کو ایک الہام ہوا تھا

زد درگاہ خدا مردے بصد اعزاز مے آید
مبارک بادت اے مریم کہ عیسیٰ باز مے آید
(تزکرہ صفحہ 684 )
خدا کی درگاہ سے ایک مرد بڑے اعزاز کے ساتھ آتا ہے۔
اے مریم تجھے مبارک ہو کہ عیسیٰ دوبارہ آتا ہے۔

یہ پہلا مجدد تھا جس کو اللہ نے مریم کہا محمدی مریم سے روحانی بیٹا عیسیٰ پیدا ہونا تھا جیسا کہ موسوی مریم سے پیدا ہوا تھا۔

“Virtue is God”


“Virtue is God” is a philosophical writing of Abdul Ghaffar Janbah. In this book, structured in three topics: the Essence of Virtue, Virtue is Knowledge and Virtue is God, he proves in perfection that “Virtue is God” The author says that Muslims and Muslim thinkers have studied the Holy Quran in the light of Greek Philosophy although the Holy Quran is a great and complete Divine book and every sort of welfare is founded in it. Therefore it had been necessary that we would have studied Greek and all other sorts of philosophies in the light of Holy Quran and would have chosen pearls of Knowledge and Wisdom out of It. The author discusses different kinds of philosophies, different schools of thought and their concerns. Moreover he replies the most subtle and difficult question “What is Virtue?” In this regard he provides opinions of some ancient and non-Muslim philosophers. He discusses them in his own style and proves that Virtue is an “All Comprehending Light’, Infinite and Allah. What the author discusses and how he proves that “Virtue is God”, is very excellent…” (Nazir Haqq, Daily Newspaper. Pakistan. (Urdu), Sunday Magazine “Zandgi”, 22nd August to 28th August 2004)